ڈالر پر انحصار ختم، قومی اتحاد سے دشمن کوشکست دیں گے، سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک میں قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے ایسی سرگرمیوں اور بیانات سے گریز کی ہدایت کی ہے جو عوامی حوصلے کو متاثر یا معاشرتی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری پیغام میں حکومت پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مایوسی پھیلانے والے بیانات سے اجتناب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی سرگرمی ممنوع ہونی چاہیے اور ریاستی اقدامات میں قومی یکجہتی اور عوامی اتحاد کو بنیادی اہمیت دی جائے۔سپریم لیڈر نے صدر مسعود پزیشکیان کی حکومت کی جانب سے بنیادی اشیائے ضروریہ اور عوامی خدمات کی فراہمی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور توانائی کے وسائل کے انتظام کیلئے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب ایران کو پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور جنگ سمیت متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ملکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی ضروریات پوری کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے مہنگائی، بے روزگاری، اشیا کی قیمتوں اور مارکیٹ میں طلب و رسد کے مسائل کو اہم معاشی چیلنجز قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاری میں اضافے اور ملکی پیداوار کے فروغ پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کو ایسے شعبوں کی جانب منتقل کیا جائے جو ملک کی حقیقی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوں۔ایرانی سپریم لیڈر نے معیشت میں امریکی ڈالر کے کردار کو بتدریج کم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مسائل کے حل کیلئے مقامی پیداوار پر انحصار بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے ضروری اشیا کی فراہمی کیلئے درآمدات کے استعمال میں ضرورت اور دانش مندی کو ملحوظ رکھنے جبکہ جہاں ممکن ہو ملکی پیداوار کو ترجیح دینے پر زور دیا۔انہوں نے معاشی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور پیداوار کو متحرک کرنے کو ایران کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کے اقدامات ایران کو متاثر کرتے ہیں، تاہم بہتر انتظام، ملکی وسائل پر انحصار اور عوامی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک معاشی ترقی اور خوشحالی کی جانب آگے بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے حکام کو ملکی کمزوریوں کو ایسے انداز میں پیش کرنے سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا جس سے عوامی حوصلہ متاثر ہو یا مخالفین کو فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایران کی طاقت، عوامی اتحاد اور دستیاب صلاحیتوں کو نمایاں کرنا زیادہ اہم ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ، شدید اقتصادی پابندیوں، توانائی اور ایندھن کے مسائل اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی جیسے متعدد دباؤ کا سامنا ہے۔ایرانی قیادت کی جانب سے سماجی اتحاد، ملکی پیداوار اور معاشی خود انحصاری پر زور کو موجودہ جنگی اور اقتصادی دباؤ کے دوران اندرونی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے