تعلیمی پیکج کی منظوری ہائیر ایجوکیشن اور ان کی ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں ،دیوان چغتائی
موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحیدایڈووکیٹ نے وزراء حکومت دیوان علی خان چغتائی، ملک ظفر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی پیکج کی منظوری میں ہائیر ایجوکیشن اور ان کی ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مسلسل کوشش کی اور تاریخی پیکج کی منظوری کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا شکر گزار ہوں جن کی قیادت اور ویژن سے یہ کامیابی ممکن ہوئی۔ تعلیمی پیکج کی منظوری کیلئے 2 ارب 45 کروڑ روپے سکولز، 76 کروڑ 65 لاکھ ہائیر ایجوکیشن کے لیے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ تعلیمی پیکج بنیادی طور پر نیشنل ایجوکیشن پالیسی کا تسلسل ہے۔ پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کی بنیاد پر ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں کی کمی بیشی کو پورا کیا گیا ہے، سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو میں تفاوت کو بھی ایڈریس کیا گیا ہے جس کے تحت کمی بیشی کو دور کیا گیا ہے یہ سفارشات منتخب ممبران اسمبلی کی مشاورت سے حتمی کی گئی ہیں۔وزیر تعلیم سکولز دیوان علی خان چغتائی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن پیکج کی تیاری میں محکمہ تعلیم، سیکرٹری تعلیم سکولز اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت کی بنیاد پر ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں کی اپگریڈیشن اور تدریسی کیڈر کی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ 868 اداروں کی اپ گریڈیشن کی گئی۔ 182محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کے 182نئے سکولوں کے قیام کے لیے 259آسامیاں، موجودہ 653سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 2692آسامیاں جبکہ موجودہ 200سکولوں میں 368آسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ ان آسامیوں کی تخلیق پر کل 2978.99ملین روپے کے اخراجات آئیں گے۔ ماہر مضامین کی آسامیوں کو تمام مڈل اور ہائی سکولز میں رکھا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم میں ملازمین کیلئے حاضری کو یقینی بنا رہے ہیں، وزیر ہائیر ایجوکیشن ملک ظفرنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے ایجوکیشن پیکج کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا اور ان کی خصوصی دلچسپی سے آج یہ پیکج منظور ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے یونیفارم پالیسی کےتحت ایجوکیشن منظور کرایا۔ پیکج کے تحت آزاد کشمیر کے 03 ڈویٹرنز کے دس اضلاع میں 76 کروڑ 64 لاکھ کا ایجوکشن پیکج منظور کر دیا گیا ہے۔مظفر آباد ڈویژن کے 03 اضلاع میں کل 09 نئے کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کی مالیت 18 کروڑ 75 لاکھ روپے ہیں اور ان میں 162 نئی آسامیوں کی تخلیق ہے۔ 06 ادارہ جات کی اپ گریڈیشن پر 04 کروڑ 24 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے اور 43 آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے جبکہ ڈویژن کے موجودہ ادارہ جات میں 30 اضافی اسامیوں کی تخلیق پر 02 کروڑ 78 لاکھ کی منظوری دی گئی ہے۔پونچھ ڈویژن کے 04 اضلاع میں کل 07 نئے کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کی مالیت 14 کروڑ 58 لاکھ روپے ہیں اور ان میں 126 نئی آسامیوں کی تخلیق ہے ۔ 14 ادارہ جات کی اپ گریڈیشن پر 10 کروڑ 65 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے اور 104 آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے جبکہ ڈویژن کے موجودہ ادارہ جات میں 30 اضافی اسامیوں کی تخلیق پر 02 کروڑ 40 لاکھ کی منظوری دی گئی ہے۔میر پورڈویژن کے 13 اضلاع میں کل 04 نے کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کی مالیت 7 کروڑ 79 لاکھ روپے ہیں اور ان میں 68 نئی آسامیوں کی تخلیق ہے ۔ 11 ادارہ جات کی اپگریڈیشن پر 7 کروڑ 65 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے اور 81 آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے جبکہ ڈویژن کے موجودہ ادارہ جات میں 77 اضافی اسامیوں کی تخلیق پر 06 کروڑ 67 لاکھ کی منظوری دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے جا معہ کشمیر کے مالی بحران پر قابو پانے کیلئے خطیر رقم فراہم کی۔ تاریخ میں پہلی بار محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے جامعہ کشمیر کو پونے دو ارب روپے فراہم کئے،