اقوام متحدہ کے سربراہ کا دورہ پاکستان مکمل، کثیرالجہتی نظام اور عالمی امن کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ 8 اکتوبر کو مکمل کر لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام اور علاقائی و عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کے دورے کے دوران اعلیٰ حکام سے علاقائی و عالمی امن و سلامتی، مسئلہ جموں و کشمیر، فلسطین، افغانستان، انسداد دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال 6 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں، کثیرالجہتی نظام اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔نائب وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالی اور مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا حل متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے جائز حق کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ملاقات میں افغانستان، انسداد دہشت گردی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی امن و سلامتی اور موجودہ کثیرالجہتی نظام کو درپیش چیلنجز سمیت مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے صدر پاکستان سے بھی ملاقات کی۔ ایوان صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں صدر نے عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی خدمت کے لیے انتونیو گوتریس کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں نشانِ امتیاز سے نوازا۔7 اکتوبر کو سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر داخلہ و انسداد منشیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔مختلف ملاقاتوں کے دوران انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، خصوصاً اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں پاکستان کے اہم کردار اور مذاکرات، ثالثی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اس کی کوششوں کی تعریف کی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، خطرات میں کمی اور بروقت وارننگ کے نظام کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔7 اکتوبر کو گوتریس نے فارن سروس اکیڈمی میں ’’بدلتی دنیا میں کثیرالجہتی نظام کا استحکام: جغرافیائی سیاست اور اقوام متحدہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر خصوصی نشست سے بطور مہمان مقرر خطاب بھی کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تقریب میں استقبالیہ کلمات ادا کیے۔اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی سخاوت، استقامت اور یکجہتی کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط خدمات، بالخصوص اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی حیثیت سے اپنے دور کا بھی ذکر کیا۔انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان سے اقوام متحدہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی سطح پر درپیش اہم چیلنجز پر خیالات کے تبادلے کا موقع ملا۔دورے نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کو مرکزیت حاصل ایک مضبوط اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کی مسلسل حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں سے اپنی دیرینہ وابستگی برقرار رکھتا ہے۔