انسانی ہمدردی اور بنیادی ضروریات کا تحفظ پُرامن معاشرے کی ضمانت ہے :جاوید اقبال گوندل
نیویارک (خصوصی نمائندہ):علامہ اقبال کمیونٹی سینٹر بروکلین نیویارک کے چیئرمین چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا ہے کہ انسانی معاشرے کو درپیش مسائل کا حل الزام تراشی، تنقید یا کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے میں نہیں بلکہ انسانی تکالیف کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے اور ان کے تدارک کیلئے مستقل اور عملی اقدامات میں ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کے وقار، عزت، تحفظ اور بنیادی ضروریات کو بلاامتیاز یقینی بنایا جائے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی پس منظر، عقیدے یا سماجی حیثیت سے ہو۔چوہدری جاوید اقبال گوندل نے اپنے تصور’’انسانی تشخیصی انتظام‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی فرد، قوم، ادارے یا مذہب کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ انسانی تکلیف کہاں سے جنم لیتی ہے، کون سی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں اور ایسے تعمیری اقدامات کیا ہوسکتے ہیں جن سے درد اور مشکلات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انسان کی بنیادی ضروریات صرف خوراک، پانی، رہائش اور لباس تک محدود نہیں بلکہ امن و تحفظ، محبت و وابستگی، خوداحترامی، خود شفقت، احساسِ قدر، خود آگاہی اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع بھی انسانی زندگی کیلئے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق ایک صحت مند، متوازن اور پُرامن معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب ان ضروریات کو عزت، مساوات اور ہمدردی کے ساتھ سمجھا اور پورا کیا جائے۔چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا کہ کسی بحران کے دوران ہمارا پہلا سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’قصوروار کون ہے؟‘‘ بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بحران نے ہمیں کیا سبق دیا، انسانی ضرورت کہاں پوری نہیں ہوئی اور مستقبل میں اسی نوعیت کی تکلیف سے بچنے کیلئے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مشکلات کا شکار افراد کو ذلت، مذمت یا سماجی تنہائی کا سامنا کرانے کے بجائے ان کی بات سنی، انہیں سمجھا اور تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انسانی بنیادوں پر قائم کمیونٹی سینٹرز اور محفوظ مقامات معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں جہاں لوگ اپنی مشکلات کھل کر بیان کریں، دوسروں کو سنیں اور باہمی احترام کے ذریعے ممکنہ حل تلاش کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایسے مراکز طبی علاج یا پیشہ ورانہ نفسیاتی خدمات کا متبادل نہیں ہوں گے بلکہ ہمدردی، انسانی تعلق، سماجی مکالمے، جذباتی معاونت اور مثبت غوروفکر کیلئے موجودہ نظام کی معاونت کرسکتے ہیں۔چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا کہ انسانیت کی ترقی کا سفر درد سے شعور، شعور سے فہم، فہم سے ہمدردی، ہمدردی سے عملی اقدام اور عملی اقدام سے روک تھام کی جانب ہونا چاہیے۔ اگر معاشرہ کسی بحران سے سبق حاصل کرکے بہتر نظام تشکیل دے اور مستقبل کے نقصانات کی روک تھام کرے تو انسانی تکلیف حکمت، استقامت اور ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔چیئرمین علامہ اقبال کمیونٹی سینٹر نے کہا کہ معاشروں کو نفرت، تذلیل اور انتقام کے بجائے باہمی فہم، ہمدردی، دانائی اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف زخموں کی تعداد نہیں گننی بلکہ ان کے علاج اور مستقل حل تلاش کرنے چاہئیں۔چوہدری جاوید اقبال گوندل نے انسانی وقار، امن، ہمدردی اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے اجتماعی سماجی کوششوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حتمی مقصد انسانی درد کو محسوس کرنا، اس کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا، مزید نقصان کو روکنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں لوگ سنبھل سکیں، اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرسکیں اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔