یہاں کوئی کاکروچ نہیں نکلے گا، جو ہورہا ہے منجانب اللہ ہے، رانا ثناء اللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط فیڈریشن ہے، یہاں کوئی کاکروچ نہیں اور نہ ہی یہاں سے کوئی کاکروچ نکلے گا، اگر کوئی چھوٹا موٹا کاکروچ نکلا تو اسے مسل دیا جائے گا۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے ساتھ وی لاگ/پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، عمران خان اور حکومت کے حوالے سے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ اس دوران ارشاد بھٹی نے رانا ثناء اللہ سے کہا کہ "آپ جو کچھ آج کر رہے ہیں، کل کو وہ آپ کو خود بھی بھگتنا پڑے گا۔”ارشاد بھٹی کے سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ "ہم نہ تو اس وقت کسی کو کچھ بھگتا رہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ہم خود کچھ بھگتیں گے، ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ سب منجانب اللہ ہے اور وہی ہر چیز کا نظام چلا رہا ہے۔”رانا ثناء اللہ نے پاکستان کے وفاقی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اور نیپال بنیادی طور پر ایک قوم اور ایک ملک کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان ایک مضبوط اور باقاعدہ فیڈریشن ہے۔ ان کے بقول پاکستان سے کسی کے نکلنے یا ملک کے ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں کوئی کاکروچ نہیں، نہ ہی یہاں سے کوئی کاکروچ نکلے گا، اگر کوئی چھوٹا موٹا کاکروچ نکلا تو اسے مسل دیں گے۔” یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی رانا ثناء اللہ کے اس تبصرے پر سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔
عمران خان کے حوالے سے بھی دوٹوک موقف
گفتگو کے دوران عمران خان کے حوالے سے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ہوں یا ہلاکو خان، انہیں کسی کا خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوف والی مٹی سے نہیں بنے اور انہیں کسی سے ڈر نہیں لگتا۔
اس موقع پر ارشاد بھٹی نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر "ہم” سے مراد رانا ثناء اللہ کی اپنی ذات ہے تو بات درست ہے، تاہم ان سے آگے بھی بہت سے لوگ موجود ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے جواب دیا کہ آگے والے لوگ بھی اللہ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہیں۔
27 ستمبر کے احتجاج پر بھی رانا ثناء اللہ کا بیان
یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج/لانگ مارچ سے متعلق سیاسی سرگرمیاں زیر بحث ہیں۔ اس سے ایک روز قبل رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ انہیں 27 ستمبر کے پی ٹی آئی مارچ کے پرامن رہنے کی توقع نہیں اور اگر 9 مئی جیسی حماقت دہرائی گئی تو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔دوسری جانب رانا ثناء اللہ نے حالیہ دنوں میں نئے صوبوں کے معاملے پر بھی موقف دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اور ارکان اپنی رائے دیں گے، جبکہ اس معاملے پر پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی بھی بن سکتی ہے۔ یوں رانا ثناء اللہ کی ارشاد بھٹی کے ساتھ حالیہ گفتگو میں ایک طرف عمران خان اور سیاسی مخالفین کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا، جبکہ دوسری طرف ان کا کاکروچ” والا جملہ اس گفتگو کا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا حصہ بن گیا ہے۔