شہباز شریف کا بحرین سے تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات کے دوران کیا، جو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے پاکستان کے دورے پر ہیں۔وزیراعظم آفس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اہم شعبوں میں بحرین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔وزیراعظم نے بحرینی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے بحرین کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے قریبی تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر مبنی ہیں۔ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے بحرین کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے مشترکہ دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت اور رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بحرینی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی تقویت دے گا اور کثیرالجہتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔پاکستان اور بحرین نے تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے آئندہ تین سال میں دوطرفہ تجارت کا حجم دوگنا کرکے ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔یہ اتفاق رائے پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت بحرینی وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس میں تعاون کے 15 سے زائد شعبوں سے متعلق متفقہ نکات پر دستخط کیے گئے۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کریں گے، جبکہ توانائی کے شعبے میں تیل، گیس اور معدنیات سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس آئندہ ماہ منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، افرادی قوت کی نقل و حرکت، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔بحرین خلیج تعاون کونسل کی اپنی صدارت کے دوران پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط یا اس کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ دونوں ممالک آئندہ تین سال میں دوطرفہ تجارت دوگنا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہوں گے۔الزیانی نے پاکستان بحرین تعلقات کو مضبوط اور خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحرین کے بادشاہ، ولی عہد، وزیراعظم اور عوام ان تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مقررہ تجارتی ہدف حاصل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کو جامع اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں زراعت، توانائی، کھیلوں، سیاحت اور کاروباری سطح پر تعاون سمیت متعدد امور زیر بحث آئے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک صنعتی تعاون، غذائی تحفظ، ہنرمندیوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم رابطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر قریبی رابطے میں ہیں اور مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر باقاعدگی سے مشاورت کرتے ہیں۔ ان کے بقول، دونوں ممالک متعدد امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سمیت خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور مسائل کے حل کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔بحرینی وزیر خارجہ نے بحران کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی حمایت اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فریقین کے درمیان بات چیت اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، یہ بحری راستے علاقائی اور عالمی سطح پر غذائی تحفظ اور توانائی کی فراہمی کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔بحرینی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں، حوثیوں کی جانب سے سعودی شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر حملوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے اور شہری ہوا بازی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ بحرین کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیاسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ میں فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت جاری رکھے گا۔دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی صورت حال اور سندھ طاس معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کی خطرناک کوشش ہے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے پانی، غذائی تحفظ اور توانائی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے نومبر 2025 میں بحرین کے دورے اور صدر آصف علی زرداری کے جنوری 2026 کے دورے سمیت حالیہ اعلیٰ سطحی تبادلوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی تقویت ملی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 14 اکتوبر کو پاکستان اور بحرین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 55 سال مکمل ہوں گے۔ انہوں نے اسلام آباد میں قائم کنگ حمد یونیورسٹی فار نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز اور بحرین میں مقیم و کام کرنے والے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے کردار کو بھی سراہا۔الزیانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اعتماد، صاف گوئی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھتے ہیں اور مستقبل میں معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد اور ٹھوس نتائج کے حصول پر توجہ دے رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے 2025 کے پاک بھارت تنازع کے دوران بحرینی وزیر خارجہ کی حمایت اور امریکا ایران مذاکرات کے لیے ان کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دوروں کے دوران بحرین کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔دونوں ممالک نے اقوام متحدہ میں رابطہ کاری جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا، جہاں پاکستان اور بحرین سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الزیانی نے کہا کہ دونوں ملک نیویارک اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ مشاورت اور تعاون جاری رکھیں گے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اگلا اجلاس 2027 میں بحرین میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اجلاس گزشتہ اجلاس کے پانچ سال بعد ہوا ہے، جبکہ آئندہ اجلاس ایک سال کے اندر منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔بحرینی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔الزیانی نے کہا کہ دورے سے پاکستان بحرین تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت اور دونوں ممالک کے اس عزم کی توثیق ہوئی ہے کہ باہمی معاہدوں کو امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔اس سے قبل اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں اپنے بحرینی ہم منصب سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان بحرین تعلقات کا جائزہ لیا اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر تعاون اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے