پاکستان اور بحرین کا تین سال میں دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور بحرین نے تین سال کے اندر دوطرفہ تجارت کا حجم دوگنا کرکے ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے اسلام آباد میں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کے تیسرے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی دو روزہ دورے پر گزشتہ شب پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔اس موقع پر بحرینی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں، جو باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا ایک اہم نتیجہ متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بناتے ہوئے ادارہ جاتی تعاون کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ طریقہ کار مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر باقاعدہ رابطے اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندیوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ دونوں جانب سے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے تاکہ ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ بحرینی ہم منصب کے ساتھ جنوبی ایشیا کی صورتحال، افغانستان اور سندھ طاس معاہدے سمیت مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کی خطرناک کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے خلیج کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں کمی، تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے، آئندہ ماہ تیل، گیس اور معدنیات کے شعبوں میں توانائی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کرنے اور غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، افرادی قوت کی نقل و حرکت، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خلیجی تعاون کونسل (GCC) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کو تین سال میں دوطرفہ تجارت دوگنا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بحرین نے دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ تجارتی اہداف کے حصول کے لیے حکومت سے حکومت اور کاروباری سطح پر روابط کے ذریعے مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک لاکھ 34 ہزار پاکستانی بحرین میں مقیم ہیں، اس لیے ہنرمند پاکستانی افرادی قوت کی نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔بحرینی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 6 اور 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحرین سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی اور خلیج تعاون کونسل کی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی اور بات چیت و کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس سے قبل دونوں وزرائے خارجہ نے دفتر خارجہ میں الگ ملاقات بھی کی۔ دفتر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران پاکستان بحرین تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔