2005 کے زلزلے کے زخم آج بھی تازہ ہیں، تباہ کاریوں کے اثرات بدستور موجود ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر

مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور 21 سال گزرنے کے باوجود اس سانحے کے تباہ کن اثرات متاثرین کے دل و دماغ پر بدستور موجود ہیں۔زلزلہ متاثرین کی یاد میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ قدرتی آفت کے بعد شروع ہونے والا تعمیرِ نو کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، تاہم باقی ماندہ منصوبے بھی جلد مکمل کیے جائیں گے۔انہوں نے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے خدمات انجام دینے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے لیے پاکستانی قوم کا جذبۂ ایثار و تعاون بے مثال تھا۔وزیراعظم نے دوست ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر اداروں کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی معاونت کے بغیر تعمیرِ نو کا عمل ممکن نہ ہوتا۔افتخار گیلانی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح زلزلے سے متاثرہ اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ غیر محفوظ تعمیرات سے گریز کریں اور تعمیراتی قوانین اور ضوابط پر سختی سے عمل اس سے قبل وزیراعظم آزاد کشمیر نے 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں جاں بحق افراد کی یاد میں منعقدہ مرکزی تقریب میں شرکت کی۔ صبح 8 بج کر 52 منٹ پر سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزیراعظم نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔اس موقع پر آزاد کشمیر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے یادگار پر گارڈ آف آنر پیش کیا۔وزیراعظم نے تقریری مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں شیلڈز بھی تقسیم کیں اور فلاحی و سماجی تنظیموں کی جانب سے متاثرین کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔وزیراعظم نے اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) اور ہلال احمر کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا اور ریسکیو 1122 کی جانب سے پیش کیے گئے عملی امدادی مشق کا بھی مشاہدہ کیا۔تقریب میں وزرا، قانون ساز اسمبلی کے ارکان، سرکاری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے