قدرتی آفات روکنا ممکن نہیں, نقصانات کم کرنا ممکن ہے :وزیراعظم آزاد کشمیر

اسلام آباد:وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005 آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک دن ہے، جب تباہ کن زلزلے نے شہروں اور دیہات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، ہزاروں افراد جاں بحق جبکہ لاکھوں بے گھر ہوگئے۔زلزلہ شہدا ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات کے باوجود کشمیری عوام نے صبر، حوصلے اور اتحاد کا مظاہرہ کیا اور پوری کشمیری قوم اس کڑے وقت میں متحد اور منظم رہی۔وزیراعظم نے امدادی، بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں بھرپور کردار ادا کرنے پر پاکستانی قوم، مسلح افواج، ریاستی اداروں، عالمی امدادی تنظیموں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔افتخار گیلانی نے کہا کہ زلزلے سے آزاد کشمیر کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود سینکڑوں اسکولوں اور کالجوں کی تعمیر نو کے منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے۔ حکومت باقی ماندہ منصوبوں کو مکمل کرنے اور تعلیمی سہولیات میں بہتری کے لیے انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کرنے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، پیشگی تیاری اور جدید نظام کے ذریعے ان کے خطرات اور نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت ہنگامی حالات میں انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا حکومت کی 100 روزہ ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت کے ترقیاتی وژن میں قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے طویل المدتی مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے ترقیاتی ماڈل اور ’’اپنا گھر اسکیم‘‘ کے فوائد کو آزاد کشمیر تک بھی وسعت دی جائے گی تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ گھروں کی تعمیر میں مدد فراہم کی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے