کے پی حکومت نے طالبان کو اپنا عسکری ونگ بنا رکھا ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا تو حکومت دارالحکومت کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور کسی کو بھی اسلام آباد کا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان پاکستان کے دشمن ہیں، اگر وہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شامل ہو کر دارالحکومت پر حملہ کرتے ہیں تو اسلام آباد کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان نہ شہدا کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ بقول ان کے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان خیبر پختونخوا حکومت کے عسکری ونگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے متعدد مرتبہ اسلام آباد پر حملہ آور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کسی کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت طالبان کے ساتھ مل کر چلتی ہے تو خدانخواستہ صوبے کو الگ کرنے کی خواہشات بھی جنم لے سکتی ہیں۔اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور ’’مجرمانہ بے حسی‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید خون بہانے کے لیے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر ہے جبکہ دوسری جانب سہولت کاروں کے ذریعے خیبر پختونخوا کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہو چکی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں نے پانچ بے گناہ افراد کو قتل کیا، جن میں محکمہ کسٹمز کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے نہ تو ان ہلاکتوں کی مذمت کی، نہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور نہ ہی ان کے گھروں کا دورہ کیا۔وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ ناکام لانگ مارچ میں مکمل طور پر مصروف ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ نے گورنر کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرنے پر انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری کو بھی سرزنش کی۔خواجہ آصف کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کو مکمل طور پر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگ صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں اور صوبائی حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی جیلوں میں رہی، تاہم پارٹی نے ریاستی اداروں کو یرغمال نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے عدالتوں اور پارلیمان میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی اور طالبان کے اتحادی نہیں بنے۔‘‘خواجہ آصف نے کہا کہ اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے اور خیبر پختونخوا کو ’’نااہل حکمرانوں‘‘ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا اتحاد خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ ہی پورے صوبے کو یرغمال بننے دیا جا سکتا ہے۔