پی ٹی آئی نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کو علامتی قرار دے دیا، سنجیدہ بات چیت کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو محض علامتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دعوت دینے کے علاوہ حکومت کی جانب سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گزشتہ ایک سال سے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ آخری ملاقات گزشتہ سال اکتوبر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے، لیکن اس کے باوجود پارٹی قیادت کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔بیرسٹر گوہر کا بیان وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ٹی آئی کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ اور دھرنا ختم کردے تو حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی نے حکومت کے ساتھ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم حکومت کی جانب سے سنجیدگی اور فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں کوئی بھی غیر قانونی مطالبہ شامل نہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ نہیں، اس کے باوجود انہیں حراست میں لیا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق جب وہ منگل کو اڈیالہ جیل پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کے کزن قاسم زمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جو ان کے بقول غیر سیاسی ہیں اور انہوں نے کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔دہشت گردی کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور صوبائی اسمبلی نے بھی اس حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ایک یا دو مزید دور ہوتے تو معاملے کو حل کی جانب لے جایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فریقین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مسئلے کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو اسے اپوزیشن کی قیادت سے رابطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات کے لیے مجاز ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لانگ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں معاملات طے پانے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کو فیصلے کرنے کا مکمل اختیار حاصل تھا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں کارروائیوں کی حکومتی منصوبہ بندی پر مشاورت نہ ہونے کے باعث مسائل پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کے لیے مکمل اختیار دے رکھا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر حکومت بات چیت کرنا چاہتی ہے تو وہ علامہ ناصر عباس سے رابطہ کرسکتی ہے، جبکہ مذاکرات جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ اپوزیشن قیادت کرے گی۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پارٹی کے آئینی اور قانونی مطالبات پر اس کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ ایک ویڈیو بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پارٹی کے احتجاج پُرامن رہیں گے اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکیاں مسائل کا حل نہیں اور صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات محدود کرنے سے پارلیمانی نظام متاثر ہوگا۔ اسد قیصر نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے مقدم ہے، جبکہ امن کا قیام اور آئین کی بالادستی پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں شامل ہیں۔