ٹائمز ہائر ایجوکیشنکی تازہ عالمی درجہ بندی، کوئی پاکستانی جامعہ ٹاپ 400 میں شامل نہ ہوسکی
اسلام آباد: ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی تازہ عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں کوئی بھی پاکستانی جامعہ دنیا کی ٹاپ 400 جامعات میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، جس کے باعث ملک کی تحقیقی کارکردگی اور اعلیٰ تعلیم کے معیار سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔رینکنگ کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی پاکستان کی سب سے بہتر درجہ پانے والی جامعہ رہی، جو 551 سے 600 کی کیٹیگری میں شامل ہے، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)نے 601 سے 650 کے گروپ میں جگہ بنائی۔جامعہ کراچی عالمی درجہ بندی میں 1601 ویں نمبر پر جبکہ پنجاب یونیورسٹی1801 ویں نمبر پر رہی۔ مجموعی طور پر 56 پاکستانی جامعات کو تازہ عالمی رینکنگ میں شامل کیا گیا، تاہم ان میں سے کوئی بھی ٹاپ 400 میں جگہ نہ بنا سکی۔عالمی سطح پر آکسفورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 11ویں مرتبہ پہلی پوزیشن برقرار رکھی، جبکہ امریکا کی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) دوسرے نمبر پر رہی۔ ایشیا میں چین کی سنگھوا یونیورسٹی عالمی سطح پر 11ویں اور پیکنگ یونیورسٹی13ویں نمبر پر رہی۔ چین کی 17 جامعات دنیا کی ٹاپ 200 جامعات میں شامل ہوئیں، جبکہ جاپان کی پانچ جامعات بھی ٹاپ 200 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ پاکستان کی کسی جامعہ کا ٹاپ 400 میں شامل نہ ہونا ملک کے تحقیقی معیار، علمی کارکردگی، بین الاقوامی تعاون اور ادارہ جاتی صلاحیت کے حوالے سے جاری چیلنجز کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی درجہ بندی میں بہتری کے لیے تحقیق، جدت، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، جدید تعلیمی سہولیات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تحقیقی انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔