شاہ زیب شبیرکی ڈاکٹر نجیب نقی کو صدرمنتخب ہونے پر مبارکباد
اسلام آباد:سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کے صدر سردار شہزیب شبیر نے سینئر کشمیری سیاستدان ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد جموں و کشمیر کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے انتخاب کو پونچھ سمیت ریاست بھر کے عوام کے لیے اعزاز قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں سردار شہزیب شبیر نے کہا کہ ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان ایک ممتاز سیاسی و سماجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جس کی خطے کے عوام کے لیے طویل خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب نقی خان کے والد اور دادا کی سیاسی و سماجی خدمات خطے کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب صدر اپنے آباؤ اجداد کی عوامی خدمت کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے آزاد کشمیر کو درپیش مسائل کے حل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔سردار شہزیب شبیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں ڈاکٹر نجیب نقی خان کا صدر آزاد کشمیر منتخب ہونا پونچھ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ سول سوسائٹی کو نئے صدر سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور امید ہے کہ وہ اپنے آئینی منصب کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی، سماجی اور انتظامی مسائل کے حل میں کردار ادا کریں گے۔انہوں نے صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر پر زور دیا کہ وہ سیاسی برداشت، مفاہمت اور باہمی احترام کو فروغ دیں اور موجودہ بے یقینی و اضطراب کی فضا کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔سردار شہزیب شبیر نے آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم سید افتخار گیلانی اور قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق کو بھی مبارکباد دی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت پونچھ میں سیاسی، سماجی اور انتظامی نظام کو بحال اور مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی اور عوام کے دیرینہ مسائل کے حل پر توجہ دے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزاد کشمیر اپنے 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے میں پونچھ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج شامل کرے، جس کے تحت بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور معاشی مواقع کی بہتری کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈز مختص کیے جائیں۔سردار شہزیب شبیر نے کہا کہ پونچھ کے عوام توقع رکھتے ہیں کہ نئی قیادت سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر جمہوری روایات کو مضبوط، مفاہمت کو فروغ اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی و سماجی استحکام کے لیے مسلسل مکالمہ، ادارہ جاتی تعاون اور منصفانہ ترقی ناگزیر ہے۔