خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، تارڑ کا پی ٹی آئی سے مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان کے ساتھ۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت انسداد دہشتگردی آپریشنز کی ذمہ داری قبول کرنے اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں حالات بہتر بنانے کے لیے 12 سال سے زائد کا عرصہ کافی ہوتا ہے، مگر خیبرپختونخوا حکومت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دہشتگردی کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم صوبائی حکومت نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت سالانہ اربوں روپے ملنے کے باوجود یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کے افغانستان اور انسداد دہشتگردی سے متعلق مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا افغانستان کے لیے نرم رویہ کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا اور دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کو ڈالرز دیے جاتے ہیں۔ طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حملوں کے سہولت کار موجود ہیں، جبکہ صوبائی حکام کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں بھی واپس کردی گئیں۔ انہوں نے نئے پولیس قانون میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق دہشتگردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کو اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی گئی، تاہم وہ شریک نہیں ہوئی۔وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے متعدد واقعات میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں جاچکی ہیں۔ رواں ہفتے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں اینٹی اسمگلنگ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے خودکش حملے میں دو خواتین اور 2 سالہ بچے سمیت کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ ہفتے کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکوں کے نتیجے میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد جاں بحق اور 103 زخمی ہوئے تھے۔ دوسری جانب پاکستان افغانستان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان جنگجوؤں کی جانب سے حملوں کی کوششیں ناکام بنانے اور جوابی کارروائی میں متعدد طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔