کرم ،دراندازی ناکام ،افغانستان سے آنے والے 8 ڈرونز مار گرائے گئے


اسلام آباد:پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز مار گرائے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق چار ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں جبکہ دیگر چار کوہاٹ کے قریب پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کے فعال فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے انہیں فضا میں ہی تباہ کردیا، جبکہ تباہ ہونے والے ڈرونز کا ملبہ قبضے میں لینے کی کارروائی جاری ہے۔ پاک افغان سرحد پر تعینات فضائی دفاعی نظام چوبیس گھنٹے مکمل طور پر فعال اور الرٹ ہے۔ دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کرم سیکٹر میں افغانستان سے فتنۃ الخوارج کے جنگجوؤں کی دراندازی کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراندازی کی کوشش افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیا میں قائم افغان طالبان کی چوکیوں سے کی گئی، تاہم سرحد پر تعینات پاکستانی فوجی دستوں نے اسے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق دراندازی کی کوشش ناکام ہونے کے بعد افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں اور مارٹرز سمیت دیگر ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جواب دیا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی مقامات کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں، بشمول توپ خانے، سے نشانہ بنایا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے دو روز قبل خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر زمینی کارروائی اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔وزارت اطلاعات کے مطابق 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو کے علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران 9 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق تین اہداف تباہ کیے گئے، جن میں خودکش حملہ آوروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا، جبکہ مجموعی طور پر 28 دہشت گرد مارے گئے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں کی گئی تھیں، جن میں کوہاٹ کے حالیہ حملے سمیت متعدد واقعات میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے