پی ٹی آئی کا پُرامن احتجاج کا دعویٰ، حکومت سے رویہ بدلنے کا مطالبہ


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والے لانگ مارچ کے دوران قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی برقرار رکھی جائے گی، پی ٹی آئی قانون اور امن و امان کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی۔پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر قبضہ کرنے یا اسے ’’سومناتھ‘‘ بنانے نہیں جا رہی، جب پارٹی اسلام آباد پہنچے گی تو آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی اور ماحول پُرامن و جشن کا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سب سے مقدم ہے اور امن و امان کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور اس کے کارکن دہشت گردوں کی طرح اسلام آباد نہیں آئیں گے۔پی ٹی آئی نے گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالنا ہے۔ خیبرپختونخوا سے مرکزی قافلے کی تیاری جاری ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی قافلوں کے اس میں شامل ہونے کی توقع ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تین سال کے دوران 14 لانگ مارچ کی اجازت دی گئی اور ان کے راستے نہیں روکے گئے، جبکہ حکومت ختم ہونے کے بعد چار سال سے پارٹی کو لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تقریباً 1500 کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید افراد کی گرفتاری کیلئے فہرستیں تیار کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پانچ ارکان قومی اسمبلی، ایک سینیٹر، بعض ارکان صوبائی اسمبلی، اسلام آباد سے ایک رکن اور خیبرپختونخوا کے وزرا بھی زیرحراست ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کے بقول یہ اقدامات اس تاثر کو ظاہر کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود فیصلے کوئی اور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے معاملات کے بارے میں فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے رابطے منقطع نہیں کیے اور مواصلاتی ذرائع اب بھی کھلے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے مطالبات عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی، ان کے مقدمات کی سماعت اور ملاقاتوں کی اجازت تک محدود ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صورتحال اس وقت بہتر ہوگی جب دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سنیں اور ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا بند کریں۔ ریاست کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرکے ملک کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔انہوں نے عمران خان کو ملک کا ’’مقبول ترین رہنما‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عمران خان کے گھر سے تعلق رکھنے والی چار خواتین کو کس جرم میں قید کیا گیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو 26 نومبر 2024 کے بعد ہی نہیں بلکہ 9 اپریل 2022 سے مسلسل ناانصافی، جبر اور دباؤ کا سامنا ہے۔وفاقی حکومت اس سے قبل پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کا لانگ مارچ آگے بڑھانے سے خبردار کر چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے