اسلام آباد میں پرتشدد گروپ کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے، عطا تارڑ

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی پرتشدد گروپ کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھا جائے اور شہریوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سڑکیں بند کرنے اور عوامی نقل و حرکت متاثر کرنے سے متعلق واضح احکامات موجود ہیں، اس لیے سرکاری سڑکیں کھلی رہیں گی اور ایسے احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے شہریوں کی آمدورفت میں خلل پڑے۔دوسری جانب جماعت اسلامی نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب ’سپر لانگ مارچ‘ شروع کردیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں کراچی سے روانہ ہونے والا مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا رواں ہفتے وفاقی دارالحکومت پہنچنے کا امکان ہے۔حافظ نعیم الرحمن کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے کارکن اسلام آباد کی جانب روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں بھی کارکنوں کی متحرک ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ جماعت یا قیادت کے لیے نہیں بلکہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے ہے۔جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر پانچ ادوار میں مذاکرات ہوئے، تاہم ہفتے کو مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ جماعت اسلامی نے لیوی واپس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ادھر وفاقی حکومت نے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم بھی شروع کی ہے۔ عطا تارڑ کے مطابق اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی رکشہ استعمال کرنے والوں کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جاسکتے ہیں، جبکہ ہر ٹوکن پر 500 روپے کا فیول ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔حکومت نے اسکیم کے لیے اہل موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی عمر کی حد 15 سے بڑھا کر 20 سال کردی ہے، جس کے بعد یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ گاڑیاں بھی اہل قرار دی گئی ہیں۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی فی لیٹر 100 روپے رعایت کی سہولت رکھی گئی ہے۔عطا تارڑ کے مطابق فیول ریلیف اسکیم کے لیے 22 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہوچکے ہیں، جن میں 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین شامل ہیں، جبکہ تقریباً 19 لاکھ فیول ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسکیم کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی نظام، کنٹرول روم اور وار روم قائم کیے گئے ہیں، جبکہ پٹرول پمپس اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی نظام سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ رجسٹریشن اور ٹوکن کے استعمال کی نگرانی کی جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے