پی ٹی آئی لانگ مارچ، کے پی پولیس کا عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کے پیش نظر خیبرپختونخوا پولیس نے صوبے کے تمام پولیس یونٹس، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور، ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کے دفتر سے 18 ستمبر کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی سرکاری افسر یا اہلکار کو اسلام آباد جانے والے کسی مارچ، ریلی یا جلوس کی مدد یا سہولت کاری کے لیے کسی کے حکم کا پابند نہیں کیا جائے گا۔مراسلے کے مطابق اگر کسی افسر کو اس نوعیت کا کوئی حکم موصول ہو تو وہ فوری طور پر متعلقہ چیف سیکریٹری، چیف کمشنر، آئی جی پولیس یا متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرے گا۔عدالتی ہدایات کے تحت کسی سرکاری افسر یا اہلکار کو ایسے افراد کو اسلام آباد کی جانب مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تجارت، تعلیمی اداروں، طبی سہولیات یا پرامن اور قانونی طور پر جائیداد کے استعمال پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہو۔مراسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سرکاری وسائل کے استعمال پر عائد پابندی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق کسی مارچ، ریلی یا جلوس کے لیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر آلات براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال، فراہم یا جمع نہیں کیے جائیں گے۔اسی طرح کسی سرکاری ملازم کو اسلام آباد جانے والے مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت پر مجبور، ترغیب یا کسی اور طریقے سے پابند نہیں کیا جائے گا۔آئی جی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر پر دباؤ یا کسی قسم کی ترغیب کی صورت میں براہ راست رابطے کا مؤثر نظام برقرار رکھا جائے۔ عدالتی احکامات یا ان سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔خیبرپختونخوا پولیس نے تمام یونٹ سربراہان، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی ان سے آگاہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔پولیس کے مطابق عدالتی ہدایات کے تحت کسی قسم کے جبر یا دباؤ کی شکایت درج کرانے کے لیے ٹول فری پولیس ہیلپ لائن 080000400 اور آپریشنز برانچ کا لینڈ لائن نمبر 0919210457 چوبیس گھنٹے دستیاب رہے گا۔مراسلے کی نقول رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ، چیف منسٹر خیبرپختونخوا کے دفتر، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کو بھی ارسال کردی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے