ستمبر لانگ مارچ کا حتمی پلان سہیل آفریدی ہی جاری کریں گے، شیخ وقاص اکرم
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کا حتمی پلان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پاس ہے، وہ جب پارٹی قیادت کے ساتھ منصوبہ شیئر کریں گے تو میڈیا کو بھی آگاہ کردیا جائے گا۔ پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے لانگ مارچ کا مکمل پلان پہلے ہی ظاہر کردیا گیا تو حکومت کو بھی پیشگی اقدامات کا موقع مل جائے گا، اس لیے وہ حتمی منصوبے کے باضابطہ اعلان تک مزید تفصیلات نہیں بتائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب تک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے حتمی پلان کے حوالے سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا، وہ اس بارے میں کوئی مزید تفصیل جاری نہیں کریں گے۔شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما پولیس حراست میں انتقال کرگئے، جبکہ ان کی تدفین اور اہل خانہ سے تعزیت کے لیے جانے والے سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی ایسا اشتعال انگیز اقدام نہیں کیا گیا جسے احتجاج میں بدنظمی یا توڑ پھوڑ سے تعبیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور پارٹی اسی حق کے تحت احتجاج کر رہی ہے۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی احتجاج کی کال پر پارٹی کارکنوں نے ردعمل دیا، جبکہ وزیراعلیٰ پہلے سندھ اور پھر پنجاب گئے جہاں انہوں نے پارٹی کی اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں اور رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے اور حکومت کی جانب سے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔شیخ وقاص اکرم نے پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ پولیس کے مبینہ رویے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کارکنوں کی جانب سے اشتعال انگیزی نہیں ہوئی تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پُرامن احتجاج کے حق کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ان کے مطابق پی ٹی آئی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انہوں نے عدالتی نظام سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی انہیں انصاف کے حصول کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔