اسلام آباد میں پاکستان، تاجکستان اور جرمنی کی اہم تجارتی ورکشاپ
اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے زیر اہتمام تاجکستان کے لیے دوہرے استعمال کی اشیا اور ٹیکنالوجیز سے متعلق برآمدی کنٹرولپر دو روزہ مطالعاتی ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ 15 اور 16 ستمبر کو یورپی یونین کے پارٹنر ٹو پارٹنر (P2P) ایکسپورٹ کنٹرول پروگرام کے تحت منعقد کی گئی، جس میں پاکستان، تاجکستان اور جرمنی کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مشترکہ انعقاد وزارت خارجہ کے اسٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن (SECDIV)، یورپی یونین اور جرمن فیڈرل آفس فار اکنامک افیئرز اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول (BAFA) نے کیا۔ورکشاپ میں پانچ اہم سیشنز ہوئے، جن میں قومی اسٹریٹجک تجارتی کنٹرول کے نظام، برآمدی لائسنسنگ، نفاذ کے طریقہ کار اور دوہرے استعمال کی اشیا و ٹیکنالوجیز کی تجارت اور منتقلی سے متعلق بین الاقوامی بہترین طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ورکشاپ کا افتتاح ایڈیشنل سیکریٹری یورپ، سفیر عائشہ علی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو پُرامن مقاصد اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دوہرے استعمال کی اشیا اور ٹیکنالوجیز تک رسائی کا حق حاصل ہے۔سفیر عائشہ علی نے قومی سلامتی کے تقاضوں اور جائز بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے لیے پرعزم ہے۔ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن ہارون رشید نے اپنے استقبالیہ کلمات میں اسٹریٹجک اور دوہرے استعمال کی اشیا و ٹیکنالوجیز کی منتقلی پر مؤثر کنٹرول کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے شرکا کو پاکستان کے جامع قانونی، ضابطہ جاتی اور انتظامی برآمدی کنٹرول نظام سے آگاہ کیا، جس کا مقصد حساس اشیا اور ٹیکنالوجیز کو غیر پُرامن مقاصد کے لیے منتقل یا استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG)، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (MTCR) اور آسٹریلیا گروپ (AG) کی متعلقہ رہنما اصولوں اور کنٹرول لسٹس پر رضاکارانہ طور پر عمل کرتا ہے، جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق برآمدی کنٹرول کے معیارات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا حصہ ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکا کو پاکستان کے قومی برآمدی کنٹرول نظام، لائسنسنگ اور نفاذ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا جبکہ شریک ممالک کے درمیان تجربات اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ بھی ہوا۔اس اقدام کا مقصد اسٹریٹجک تجارتی کنٹرول کے حوالے سے سرحد پار تعاون کو مضبوط بنانا اور مؤثر، شفاف اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ طریقہ کار کے ذریعے محفوظ اور جائز تجارت کو فروغ دینا تھا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 سمیت متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا گیا۔