کراچی کا کچرا اور اربوں روپے کا خرچ، ویسٹ مینجمنٹ نظام کی کارکردگی پر سوالات
سابق وفاقی سیکریٹری، سابق نگران صوبائی وزیر اور پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے چیئرمین محمد یونس ڈھاگا نے کہا ہے کہ 2017 سے اب تک کراچی میں کچرا اٹھانے اور ویسٹ مینجمنٹ پر تقریباً 160 سے 170 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، تاہم شہر کو اب بھی صفائی اور کچرے کے مسائل کا سامنا ہے۔یونس ڈھاگا کے مطابق 2017 سے رواں سال تک سندھ بھر میں کچرا اٹھانے اور سڑکوں کی صفائی پر مختص رقوم سمیت مجموعی طور پر 190 ارب روپے سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ صرف کراچی میں اس مد میں اخراجات 160 سے 170 ارب روپے کے درمیان رہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کراچی کے ویسٹ مینجمنٹ پر خرچ ہونے والی رقم کئی بڑے صوبائی منصوبوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے بھی زیادہ ہے۔ ان منصوبوں میں بی آر ٹی ریڈ لائن، بی آر ٹی یلو لائن، کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ، سیف سٹی پروجیکٹ، کراچی کا روڈ نیٹ ورک اور رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین شامل ہیں۔محمد یونس ڈھاگا کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی رقم خرچ کیے جانے کے باوجود کچرے کی صفائی کراچی کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ ان کے مطابق خالی پلاٹس اب بھی غیر رسمی کچرا کنڈیوں کے طور پر استعمال ہورہے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے کی سہولت محدود ہے یا مکمل طور پر دستیاب نہیں۔انہوں نے بتایا کہ شہر کی سڑکوں، کھلی جگہوں اور نالوں کے اطراف بھی کچرا جمع ہے۔ موجودہ ویسٹ مینجمنٹ نظام میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے، سڑکوں کی صفائی، کچرے کو ٹرانسفر اسٹیشنز اور لینڈ فل سائٹس تک منتقل کرنے، ڈسٹ بنز اور کمپیکٹرز کی فراہمی، صفائی کے عملے کی تعیناتی اور جی پی ایس کے ذریعے نگرانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔یونس ڈھاگا نے دعویٰ کیا کہ 2017 سے ویسٹ مینجمنٹ کنٹریکٹرز کی کارکردگی کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2018 سے 2025 تک کی رپورٹس میں بھی تھرڈ پارٹی تصدیق کے بغیر ادائیگیوں، جرمانوں کی عدم وصولی، عملے کی کمی اور زائد ادائیگیوں سمیت ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔