بے گھر شہری کو زمین پر پٹخنے کا معاملہ، فرانسیسی پولیس اہلکار زیرِ تفتیش

پیرس: فرانس کے شہر کارکاسون میں ایک بے گھر شہری کو پولیس اہلکار کی جانب سے زور سے زمین پر پٹخنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اہلکار کے خلاف عدالتی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ مذکورہ شہری واقعے کے کچھ عرصے بعد انتقال کرگیا تھا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعہ موسیقی کے سالانہ میلے ’’Fête de la Musique‘‘ کے دوران پیش آیا۔ ویڈیو میں متعدد پولیس اہلکاروں کو ایک مقام پر موجود دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد ایک اہلکار ایک نوجوان کے پیچھے جاتا ہے اور اسے زور سے زمین پر گرا دیتا ہے۔ویڈیو میں شہری کو زمین پر گرنے کے بعد شدید تکلیف کے عالم میں سر پکڑے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ موقع پر موجود افراد پولیس اہلکاروں کے اقدام پر احتجاج کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شہری کو فوری طبی امداد فراہم کیے جانے کے بجائے پولیس اہلکاروں نے دیگر افراد کو اس کی مدد سے روک دیا تھا۔پراسیکیوٹر کے مطابق واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کے خلاف سرکاری اختیارات رکھنے والے شخص کی جانب سے دانستہ تشدد کے الزام کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ پولیس کے داخلی تفتیشی ادارے کو بھی معاملے کی تحقیقات سونپ دی گئی ہیں۔خبر کے مطابق واقعے کے 13 روز بعد بے گھر شہری دم توڑ گیا۔ بعد ازاں 3 جولائی کو مذکورہ 29 سالہ شخص اپنے کیمپ میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث شدید حالت میں ملا تھا، جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ موت کی وجوہ جاننے کے لیے الگ سے تحقیقات بھی شروع کی گئیں۔9 جولائی کو ہونے والے پوسٹ مارٹم میں ایسے کسی مشتبہ جسمانی زخم کے شواہد نہیں ملے جو کسی تیسرے شخص کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہوں۔پراسیکیوٹر کے مطابق یہ واقعہ کارکاسون میں موسیقی کے سالانہ میلے کے دوران پیش آیا، جہاں پولیس اہلکار شور کی شکایت پر کارروائی کے لیے پہنچے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جس 29 سالہ بے گھر شخص کو زمین پر گرایا گیا، وہ پولیس کارروائی کا اصل ہدف نہیں تھا۔ اسے گرفتار بھی نہیں کیا گیا تھا اور اس نے پولیس کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔پولیس اہلکار کے خلاف عدالتی تحقیقات کا اعلان عوامی دباؤ اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا، جبکہ واقعہ جون میں پیش آیا تھا۔رکنِ پارلیمنٹ تھوما پورٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو نے معاملے کو مزید نمایاں کردیا۔ ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار کو شہری کو زمین پر پٹختے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔کارکاسون پولیس پہلے ہی ایک الگ اسکینڈل کی زد میں ہے۔ رواں ماہ ایک فرانسیسی اخبار کی جانب سے جاری کی گئی ریکارڈنگ میں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر نسل پرستانہ، خواتین مخالف اور سازشی نوعیت کے تبصرے کرتے سنا گیا تھا، جس کے بعد چار اہلکاروں کو معطل کردیا گیا تھا۔نئی سامنے آنے والی ویڈیو میں ان چار معطل اہلکاروں میں شامل سیزار آر۔ بھی موجود دکھائی دیتا ہے، تاہم ویڈیو کے مطابق وہ شہری کو زمین پر پٹخنے کے عمل میں براہِ راست شریک نہیں تھا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق پہلی ریکارڈنگ میں موجود نفرت انگیز گفتگو کا بڑا حصہ بھی اسی اہلکار سے منسوب کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے