امریکہ کا ایران پر حملہ، 3 پائلٹس اور 6 نیول اہلکاروں سمیت 21 جاں بحق
امریکا اور ایران کے درمیان فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں اگست کے آخر سے جاری امریکی بمباری کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 افراد جاں بحق اور 140 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، تازہ ترین امریکی حملوں میں ایرانی فوج کے 3 پائلٹس اور بحریہ کے 6 اہلکاروں سمیت کل 21 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 150 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں میں ہلاک ہونے والے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی اصل تعداد 14 اور زخمیوں کی تعداد 108 ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں فوجی تنصیبات کے ساتھ شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی واضح مثال جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والا مبینہ میزائل حملہ ہے جہاں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں، فضائی دفاع، ریڈار سسٹمز اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ تیاریوں کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ جون میں عارضی جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے بعد جولائی میں بھی امریکی حملے جاری رہے تھے، جن کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا تھا۔ اگست کے اختتام پر کشیدگی میں اس نئے اضافے نے خطے میں تنازع کے مزید وسیع جنگ بننے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔