آئل ٹینکر پر حملہ سعوی عرب کی ایران کو وارننگ
آبنائے ہرمز میں سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر ’سدر‘ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ حملے میں عملے کے 2 فلپائنی ملاح جاں بحق ہوگئے، جبکہ سعودی عرب نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’سدر‘ آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکومت نے اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خطرناک مظہر قرار دیا۔فلپائن کے محکمہ تارکین وطن کے مطابق حملے میں سعودی پرچم بردار ٹینکر پر سوار 2 فلپائنی ملاح ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے دیگر عملے نے آگ پر قابو پالیا۔سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے اردن، بحرین اور کویت کو نشانہ بنائے جانے کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ریاض نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔سعودی عرب نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ کشیدگی کم کی جائے اور عالمی بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔ وزارت خارجہ نے بین الاقوامی جہاز رانی، عالمی توانائی کی فراہمی، ریاستوں کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے احترام پر بھی زور دیا۔سعودی وزارت خارجہ نے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور پرامن راستے کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔اس سے ایک روز قبل بھی سعودی تیل لے جانے والے 2 سپر ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ان میں سعودی پرچم بردار ’سدر‘ اور لائبیریا کا پرچم رکھنے والا ’سینیگال پراسپیریٹی‘ شامل تھے۔