ایرانی عوام کا اتحاد امریکی و اسرائیلی مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا، نعیم قاسم کا دعویٰ
بیروت:حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ایرانی عوام کے اتحاد اور مختلف طبقات کی مزاحمت کے باعث اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔پریس ٹی وی کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے ہفتہ وحدت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور قومی اتحاد کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مزاحمت اور ثابت قدمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔حزب اللہ سربراہ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف تین جنگی مراحل میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کے اتحاد اور مزاحمت نے ان کارروائیوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔شیخ نعیم قاسم نے جون 2025 اور فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی مشترکہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیا، جبکہ جولائی میں ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کو بھی اسی سلسلے کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جب عوام اپنے حقوق، وطن اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں تو دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ مشکلات، قربانیوں اور جانی نقصانات کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے سے دشمن کی منصوبہ بندی اور عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات کی مزاحمت اور یکجہتی کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے بقول ایران پر فوجی دباؤ کے باوجود عوامی اتحاد برقرار رہا۔شیخ نعیم قاسم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے اثرات خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نمایاں ہیں۔ حزب اللہ کی جانب سے ایران کے ساتھ یکجہتی اور امریکا و اسرائیل کی کارروائیوں پر تنقید نے خطے میں جاری سیاسی و فوجی کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔