امریکا نے ایران سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے بھیک مانگی، عباس عراقچی کا بڑا دعویٰ
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے تقریباً 20 روز بعد مذاکرات کی بھیک مانگی حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران سے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کیا تھا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صرف دو الفاظ لکھے تھے، "غیر مشروط ہتھیار ڈالنا”، اور امریکا اس وقت ایران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق صورتحال چند ہی ہفتوں میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 20 روز بعد امریکا نے ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا اور بات چیت کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ایرانی وزیر خارجہ نے اسی پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران دنیا کے سامنے خود کو ایک "سخت اور ناقابلِ شکست طاقت” کے طور پر ثابت کیا۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے ان سے کہا کہ ایرانی مزاحمت نے دنیا کو حیران کر دیا، کیونکہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکا کے خلاف اتنی دیر تک مزاحمت کر سکے گا۔ امریکا کو اسرائیل، مغربی ممالک اور بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے جنگ کے دوران مزاحمت جاری رکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ثابت کیا کہ اس کے خلاف فوجی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا آسان نہیں ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کسی بھی مذاکرات میں ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا احترام ضروری ہے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے مطالبات پر زور دیتا رہا ہے۔تاہم امریکا کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔