مظفرآباد ، لبریشن سیل اور شباب المسلمین اسٹوڈنٹس ونگ کے زیرِ اہتمام مشعل بردار احتجاجی ریلی کا انعقاد
بھارتی جیلوں میں دہائیوں سے محبوس حریت قائدین و کارکنان کی اسیری اور بھارت کے غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف جموں و کشمیر لبریشن سیل اور شباب المسلمین اسٹوڈنٹس ونگ کے زیرِ اہتمام دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بہت بڑی مشعل بردار احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی گھڑی پن علمدار چوک سے شروع ہو کر برہان وانی چوک (پریس کلب) تک پہنچی، جس میں شہریوں، طلباء اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں مشعلیں اٹھا رکھی تھیں اور اس دوران بھارت مخالف، آزادی کشمیر کے حق میں اور اسیرانِ حریت قائدین کی رہائی کے مطالبے پر مبنی فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ ریلی کی قیادت وزیر حکومت محترمہ نبیلہ ایوب خان، ترجمان وزیراعظم شوکت جاوید میر، سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق بٹ، ڈائریکٹر لبریشن سیل و کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر سجاد لطیف خان، ڈائریکٹر قومی آگاہی ونگ سردار ساجد محمود، پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر غزالی، شباب المسلمین سٹوڈنٹس ونگ کے چیئرمین منیر احمد کونشی، زبیر درانی، فیض اللہ درانی، نصیر میر، جہانگیر قریشی، تنویر درانی، اشفاق اعوان، عاطف میر، تیمور ممتاز، شبیر اعوان، صدیق خان، ارشد اعوان، شبیر بٹ، اسامہ محی الدیں، رفیق قریشی، فیضان، فلک، عقیل اور مبشر کونشی نے کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم، گرفتاریوں اور جائیدادوں کی ضبطی جیسے اوچھے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور وہ اپنے حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ریلی کے اختتام پر برہان وانی چوک میں ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا جس سے وزیر جموں و کشمیر لبریشن سیل نبیلہ ایوب، سیکرٹری اطلاعات آل پارٹیز حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ، ترجمان وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر شوکت جاوید میر، ڈائریکٹر جموں و کشمیر لبریشن سیل راجہ محمد سجاد خان، ڈائریکٹر قومی و آگاہی ونگ سردار ساجد محمود، پاسبان حریت کے رہنما عزیر احمد غزالی، چیئرمین تحریک شباب المسلمین اسٹوڈنٹس ونگ جموں و کشمیر منیر احمد کونشی اور اشفاق اعوان نے خطاب کیا۔وزیر جموں و کشمیر لبریشن سیل نبیلہ ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و جبر انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسیرانِ حریت قائدین کی غیر قانونی نظربندی عالمی قوانین کی نفی ہے اور عالمی برادری کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی اور مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اجاگر کیا جاتا رہے گا۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ حریت قیادت قربانیوں کی ایک روشن مثال ہے جو بدترین ریاستی جبر کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت کے بل پر کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہتا ہے لیکن کشمیری قوم اپنے حقِ خودارادیت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسیر حریت قائدین کی زندگیاں مسلسل خطرے سے دو چار ہیں۔ انہوں نے او آ ء سی، اقوام متحدہ اور بین الااقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے اسیر رہنماؤں کی رہاء کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنے پر زور دیا۔ شوکت جاوید میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کا واحد حل کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا وکیل بن کر عالمی سطح پر ان کی آواز اٹھاتا رہے گا۔راجہ محمد سجاد خان نے کہا کہ لبریشن سیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا بھر میں کشمیر کاز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرے اور اس حوالے سے میڈیا، سفارتی اور عوامی سطح پر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسیرانِ حریت کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ سردار ساجد محمود نے کہا کہ نوجوان نسل کو کشمیر کاز کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس حوالے سے شعور و آگاہی مہمات کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں اور آزادی کی تحریک اپنی منزل کے قریب تر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔منیر احمد کونشی نے طلباء و نوجوانوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کشمیر کی تحریک کا ہر اول دستہ ہیں اور وہ ہر محاذ پر اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ریلیاں کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔آخر میں اشفاق اعوان نے کہا کہ کشمیری قوم متحد ہے اور بھارت کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسیرانِ حریت کی رہائی اور کشمیر کی آزادی تک یہ تحریک جاری رہے گی۔جلسے کے اختتام پر اسیرانِ حریت کی جلد رہائی، شہداء کشمیر کے درجات کی بلندی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
٭٭٭٭٭