پی ٹی آئی نے حکومت کو بلیک میل کیا تو عمران خان کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا: خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے یا اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گی تو عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملے گا۔پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ’’پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی خوش فہمی ہے کہ وہ لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کر سکتی ہے۔ حکومت کسی بھی صورت میں بلیک میل نہیں ہوگی۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ہر دو تین ماہ بعد اسلام آباد پر ’’حملہ‘‘ کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے ٹی ٹی پی اور اس کے افغان سرپرستوں کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ٹی ٹی پی یا اس کے سرپرستوں کے خلاف کوئی بیان دکھایا جائے۔انہوں نے افغان طالبان قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کابل کے حکمران ٹی ٹی پی کے سرپرست ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گرد مبینہ طور پر کھلے عام سرگرم ہیں اور صوبائی حکومت کی ان علاقوں میں کوئی رِٹ نہیں۔وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ وہاں موجود نہیں؟‘‘ انہوں نے صورتحال کو ملک اور پاکستان کے ساتھ ’’بددیانتی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف گروہوں کے درمیان مبینہ روابط اور منصوبہ بندی اب سامنے آ رہی ہے۔پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما کے ماضی میں اسلام آباد میں تباہی پھیلانے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بیان پارٹی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے بلیک میلنگ کا راستہ اختیار کیا تو مستقبل میں عمران خان کے لیے کسی ریلیف کی گنجائش نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دباؤ میں آ کر پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف نہیں دے گی۔خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے، بات چیت کے بعد واپس جائے اور خیبر پختونخوا کے معاملات پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حمایت ترک کرے اور ان کی مبینہ مالی معاونت کا سلسلہ ختم کرے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ خیال چھوڑ دینا چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت کو بندوق کے زور پر اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کر سکتی ہے۔خواجہ آصف نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کے نواز شریف کی مری رہائش گاہ پر جانے سے متعلق حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے محمود خان اچکزئی کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں اور محمود خان دوسری نسل کے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ محمود خان اچکزئی سے ضرور کہیں گے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، پاکستان اور اس کی سالمیت کے بارے میں بات کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر افغانستان کی جانب سے مبینہ طور پر حمایت یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔