پی ٹی آئی لانگ مارچ کوہاٹ کی جانب رواں، وزیراعلیٰ کا جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

کوہاٹ:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ پیر کے روز کرک میں قیام کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ ہوگیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاجی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔لانگ مارچ کا آغاز اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہوا تھا، جہاں جنوبی اضلاع سے آنے والے قافلے مارچ میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں قافلہ کرک پہنچا، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بنوں، کرک سرحد پر واقع ختمِ نبوت چوک میں شرکا سے خطاب کیا۔وزیراعلیٰ نے کرک کے عوام کی جانب سے قافلے کے استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو پالیسی کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول خیبرپختونخوا کے عوام ایک بار پھر غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انہیں ’نادان‘ قرار دیے جانے کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نادانی ہے تو وہ یہ ’نادانی‘ بار بار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ملک سے محبت اور عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ قرار دیا۔وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ غلط پالیسیوں کے باعث ملک میں صوبائی تقسیم اور تعصب کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بارے میں فیصلے بند کمروں کے بجائے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے صوبے میں فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع ماضی میں دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پالیسی اور وژن کے مطابق جدوجہد جاری رہے گی۔وزیراعلیٰ نے عمران خان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی تحریک ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی اور جمہوری مطالبات کی منظوری کے لیے جاری ہے۔ انہوں نے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ صوابی میں جمع ہوں، جہاں مارچ کے اگلے مرحلے کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔اعلان کردہ شیڈول کے مطابق کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے منگل کو مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوگا۔ مارچ پشاور، چارسدہ اور مہمند سے ہوتا ہوا 8 اکتوبر کو خیبرآباد پہنچنے کا پروگرام ہے، جہاں آئندہ مرحلے سے متعلق اعلان متوقع ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ صوبے میں حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہفتے کو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔ حکومت نے پی ٹی آئی سے مارچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے