غیر ملکی فنڈز کے منصوبوں میں تاخیر، سینیٹ کمیٹی نے تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے غیر ملکی فنڈز سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خریداری کے عمل، کنسلٹنٹس کے انتخاب، بولیوں، ضمانتوں، ادائیگیوں اور منصوبوں پر پیش رفت کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پنجاب میں واسا کے ذریعے کثیرالجہتی و دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو 2008 سے اب تک کے منصوبوں، ٹینڈرنگ کے عمل، بولی ضمانتوں، پرفارمنس گارنٹیز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز، اخراجات اور صوبائی حکومت کی جانب سے ادا کیے گئے سود سے متعلق بریفنگ دی گئی۔کمیٹی نے فیصل آباد سٹی فیز ٹو واٹر ریسورسز ایکسپینشن منصوبے کا بھی جائزہ لیا، جس کی یومیہ پانی فراہم کرنے کی استعداد 30 ملین گیلن ہے اور اسے 2019 میں منظور کیا گیا تھا۔ ارکان نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں طویل تاخیر سے عوام کو خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ لاگت میں اضافے اور منصوبوں کی تکمیل میں مزید وقت درکار ہوتا ہے۔سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا کہ ماضی میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں میں تاخیر کے حوالے سے واضح پالیسی فریم ورک موجود نہیں تھا، جس کے باعث مختلف مراحل میں غیر معمولی وقت صرف ہوتا رہا۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے تاخیر ختم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سفارشات تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں میں منظوری، خریداری اور دیگر طریقہ کار مکمل ہونے میں مجموعی طور پر آٹھ سال تک کا عرصہ لگا۔ حکام کے مطابق آئندہ منصوبوں میں تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن ابتدائی مرحلے میں شامل کیا جائے گا جبکہ کنسلٹنٹس کی تقرری میں تاخیر سے بھی گریز کیا جائے گا۔اجلاس میں بین الاقوامی خریداری کے طریقہ کار اور پاکستان میں اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین فرموں کو نامزد کیا گیا تھا تاہم متعلقہ ڈونر ایجنسی نے جائزہ رپورٹ قبول نہیں کی۔ کمیٹی ابتدائی مرحلے میں رپورٹ مسترد کیے جانے کی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئی اور معاملہ مزید بریفنگ کے لیے مؤخر کردیا۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ پنجاب کو آئندہ اجلاس میں طلب کرتے ہوئے معاملے کی وضاحت دینے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے لاہور ویسٹ واٹر اینڈ ڈرینج مینجمنٹ پراجیکٹ میں خریداری کے عمل کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ چار مالیاتی بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تین کو تکنیکی اہلیت پوری نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے شرکت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ خط و کتابت، نااہلی کی وجوہات اور متعلقہ دستاویزات طلب کرلیں۔اجلاس میں بلوچستان کے پانی سے متعلق منصوبوں پر بھی آئندہ اجلاس میں بریفنگ طلب کی گئی۔ کمیٹی نے 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لاٹس ایک تا چار اور دیگر پاور سیکٹر منصوبوں پر سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے مجموعی 88 ٹاورز میں سے 8 کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں اور ان پر کام شروع ہوگیا ہے۔ چیئرمین نے باقی 80 ٹاورز کے حوالے سے ڈیمانڈ نوٹس کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ زیر التوا ادائیگیوں اور منصوبے کی تکمیل میں حائل مالی و انتظامی رکاوٹوں پر بھی متعلقہ وزارتوں سے تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔کمیٹی نے کمیونیکیشن سیکٹر کے راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور اس کی مالی و عملی پیش رفت، اخراجات، ضمانتوں اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق معلومات طلب کیں۔سینیٹ کمیٹی نے زور دیا کہ غیر ملکی فنڈز سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفاف خریداری، مؤثر احتساب اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تاخیر، خریداری کے فیصلوں، بولیوں، ضمانتوں، ادائیگیوں اور منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تمام ضروری ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے