تھائی لینڈ، کاروباری سیاحت کا نیا مرکز


محمد عقیل انجم


تھائی لینڈ نے کاروباری تقریبات، کانفرنسوں، نمائشوں اور بین الاقوامی اجلاسوں کے لیے اپنی استعداد بڑھاتے ہوئے تصدیق شدہ ’’مائس سٹیز‘‘ کا قومی نیٹ ورک 16 شہروں تک وسیع کردیا ہے۔ نئے چھ مقامات چیانگ رائی، یوبون رات چاتھانی، رائیونگ، ہوا ہِن، چا آم، کرابی اور ناکھون سی تھمارات کی شمولیت اس امر کی عکاس ہے کہ تھائی لینڈ کاروباری سیاحت کو محض بڑے شہری مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے مختلف علاقوں کی معاشی اور ثقافتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔تھائی لینڈ کنونشن اینڈ ایگزی بیشن بیورو کے مطابق نئے شہروں کی منظوری رسائی، سفری رابطوں، رہائش، ایونٹ سہولیات، مقامات کے معیار، سکیورٹی، خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور تقریبات سے قبل و بعد کی سرگرمیوں سمیت مختلف پیمانوں پر جائزے کے بعد دی گئی۔ تین پہلے سے شامل شہروں نے بھی اپنی سرٹیفیکیشن کی تجدید کرائی ہے۔ اس طرح ملک کے مختلف جغرافیائی اور معاشی خطوں کو ایک ایسے نیٹ ورک میں جوڑا گیا ہے جو بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ مقامی معیشتوں کو بھی فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس پالیسی کا اہم پہلو یہ ہے کہ ہر شہر کو اس کی اپنی شناخت اور مقامی خصوصیات کے مطابق کاروباری تقریبات کی منزل کے طور پر فروغ دینے پر توجہ دی جارہی ہے۔ شمالی علاقے کا چیانگ رائی چائے اور کافی، فنون اور ثقافتی تنوع کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، جبکہ یوبون رات چاتھانی اپنی ثقافتی روایات اور دریائے میکونگ کے مناظر کے باعث نمایاں ہے۔ دوسری جانب رائیونگ صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں، برآمدی صنعتوں اور گہری سمندری بندرگاہوں کی وجہ سے کاروباری سرمایہ کاری کیلئے اہم مقام رکھتا ہے۔ہوا ہِن اور چا آم سمندری ماحول، ہوٹلوں اور تفریحی سہولیات کے ساتھ کاروباری تقریبات کیلئے پرکشش امتزاج پیش کرتے ہیں، جبکہ کرابی قدرتی حسن کے ساتھ جدید رہائش اور ایونٹ سہولیات فراہم کرتا ہے۔ جنوبی تھائی لینڈ کا ناکھون سی تھمارات تاریخی و ثقافتی ورثے، زرعی و ماہی گیری کی سرگرمیوں اور جغرافیائی اہمیت کے باعث کاروباری سیاحت کے دائرے کو مزید وسعت دیتا ہے۔تھائی لینڈ کی حکمت عملی کا ایک قابل توجہ پہلو پائیدار ایونٹ مینجمنٹ بھی ہے۔ اگر کاروباری تقریبات کو مقامی ثقافت، ماحول اور کمیونٹی کے ساتھ مربوط کیا جائے تو اس صنعت کے فوائد صرف ہوٹلوں اور ایونٹ مراکز تک محدود نہیں رہتے بلکہ مقامی کاروباری افراد، ہنرمندوں، ٹرانسپورٹ، خوراک، سیاحت اور دیگر شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔آئندہ مرحلے میں بنیادی ڈھانچے، سفری رابطوں اور مقامی کاروباری نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اس منصوبے کی کامیابی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تھائی لینڈ کا ماڈل یہ ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری سیاحت کو علاقائی ترقی کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف عالمی تقریبات کیلئے نئی منزلیں پیدا کی جاسکتی ہیں بلکہ مقامی معیشتوں کو بھی بین الاقوامی مواقع سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے