ایران کی امریکا اور اتحادی ممالک کو وارننگ، دوبارہ حملہ ہوا تو سخت ردعمل ہوگا
تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ان علاقائی ممالک کو بھی تنازع کا فریق اور شریکِ جرم سمجھا جائے گا جو کسی بھی طرح امریکی حملے میں معاونت کریں گے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی مشترکہ فوجی کمانڈ، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ امریکا بعض علاقائی ممالک کی حمایت سے ایران کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ایرانی فوجی کمانڈ کے مطابق یورپ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران بعض نامعلوم علاقائی ممالک نے امریکا کو ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے ’’گرین سگنل‘‘ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران امریکی اڈوں اور مفادات کے خلاف ’’بغیر کسی پابندی یا مصلحت‘‘ کے جوابی کارروائی کرے گا۔ایران نے واضح کیا کہ کسی امریکی حملے میں شریک علاقائی ممالک کو تہران کی جانب سے کسی قسم کے تحمل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے اور انہیں تنازع کا فریق تصور کیا جائے گا۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی کہا کہ اگر امریکا نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی تو ایران اس کا زیادہ سخت اور تکلیف دہ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے فیصلہ کن جنگ کے لیے مکمل تیاری کرلی ہے اور امریکی فوج کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ایرانی فوج کے بری دستوں کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل جہانشاہی نے کہا کہ ملک کے سرحدی علاقوں میں فورسز مسلسل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مشکل وقت میں جنگ بھی کرنی چاہیے اور مذاکرات بھی۔ ان کے مطابق میدان جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سفارت کاری کے ذریعے ان کامیابیوں کو مستحکم کیا جانا چاہیے۔قالیباف نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کا مؤقف واضح، منطقی اور ناقابلِ گفت و شنید ہے۔ انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے جون میں طے پانے والے امن معاہدے کی شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔