حوثیوں کا بڑا آپریشن، سعودی حمایت یافتہ فورسز کو 6 اضلاع سے نکالنے کا دعویٰ
یمن کے حوثیوں نے مغربی ساحلی علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے دوران 6 اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ گروپ نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں عمومی تجارتی جہاز رانی کو محفوظ قرار دیا ہے۔حوثیوں کے عسکری ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ یہ آپریشن 3 ستمبر کو شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد تعز اور الحدیدہ صوبوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو ان کے ٹھکانوں سے بے دخل کرنا اور یمن پر عائد محاصرے اور جارحیت کا خاتمہ تھا۔یحییٰ سریع کے مطابق حوثی فورسز نے کارروائی کے دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز کو 6 اضلاع سے نکال دیا، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 5,400 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز کی 7 فوجی بریگیڈز کو نشانہ بنایا گیا اور سیکڑوں افراد ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔حوثی عسکری ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران 32 فضائی دفاعی آپریشن کیے گئے، جن میں 9 طیارے مار گرانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق لڑائی کے دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز کی حراست میں موجود یمنی قیدیوں کو بھی رہا کرایا گیا۔تاہم حوثیوں کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی جانب سے بھی ان اعداد و شمار پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے برطانوی نشریاتی ادارے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔یحییٰ سریع نے بھی کہا کہ حوثیوں کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں تمام کمپنیوں کے لیے جہاز رانی محفوظ ہے، تاہم سعودی بحری جہازوں پر پابندی برقرار رہے ان کا کہنا تھا کہ حوثی فورسز محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی کی پالیسی جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک یمن کے خلاف جارحیت ختم اور ملک کا محاصرہ اٹھا نہیں لیا جاتا۔حوثیوں کے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ باب المندب ایک اہم عالمی بحری گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر، نہر سویز اور بحیرہ روم کو بحر ہند سے ملاتا ہے۔یمن میں جاری لڑائی کے دوران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے باعث متعدد بڑی شپنگ کمپنیوں نے باب المندب کے راستے سے گریز کرتے ہوئے اپنے جہاز افریقا کے گرد طویل بحری راستے پر منتقل کیے ہیں۔موجودہ صورتحال میں حوثیوں کا یہ مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے کہ گروپ ایک جانب بحیرہ احمر اور باب المندب میں عمومی تجارتی جہاز رانی کو محفوظ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی بحری جہازوں کو اپنی پابندیوں سے مستثنیٰ نہیں کررہا۔یمن میں جاری تنازع کے دوران حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں سیکیورٹی اتحاد نے 2015 میں یمن میں فوجی مداخلت کی۔