غلطی سے سرحد عبور کرکے بھارت جانے والے دو پاکستانی بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں غلطی سے سرحد عبور کرکے بھارتی حدود میں جانے والے دو پاکستانی شہری پاکستان رینجرز کی کوششوں سے بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔ دونوں شہری کتابوں کی ڈیلیوری دینے کے دوران راستہ بھٹک کر بھارتی حدود میں داخل ہوگئے تھے، جہاں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے انہیں گاڑی سمیت حراست میں لے لیا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد سلیم اور عامر نواز 19 مئی کو قصور کے سرحدی علاقے میں کیری ڈبے پر کتابوں کی ڈیلیوری دینے گئے تھے۔ دوران سفر وہ راستہ بھٹک گئے اور غیر ارادی طور پر بھارتی حدود میں داخل ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے دونوں پاکستانی شہریوں کو ان کی گاڑی سمیت تحویل میں لے لیا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان رینجرز نے بھارتی حکام سے رابطہ کیا اور معاملے کے حل کے لیے مقامی سطح پر فلیگ میٹنگ طلب کی گئی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان رینجرز کی سفارتی اور پیشہ ورانہ کوششوں کے نتیجے میں بی ایس ایف نے گزشتہ شام دونوں پاکستانی شہریوں کو ان کی گاڑی سمیت پاکستان رینجرز کے حوالے کردیا، جس کے بعد دونوں شہری بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں افراد کا تعلق لاہور سے ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی بدنیتی یا غیر قانونی سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی معاملات سے متعلق طے شدہ طریقہ کار کے تحت اگر کوئی شہری غلطی سے سرحد عبور کرلے تو دونوں ممالک کی بارڈر فورسز مقامی سطح پر رابطہ اور تصدیق کے بعد ایسے افراد کی واپسی یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے فلیگ میٹنگز اور بارڈر رابطہ نظام استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ غیر ارادی سرحدی خلاف ورزی کے کیسز میں انسانی بنیادوں پر تعاون کی روایت بھی موجود ہے۔